تحریر:محمد فاروق رحمانی
(mfr_isb@outlook.com)
اس حقیقت کے باوجود کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا سب سے پہلا اور پرانا مسئلہ ہے اور اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری مذاکرات کے متعدد دور چلے، دونوں ملکوں میں اس مسئلے پر جنگیں بھی ہوئیں، کئی سال سے اس تنازعے کے نام پر دونوں ملکوں کے درمیان’ امن آشا ‘کی ایک تحریک بھی اخبار نویسوں اور سفارتکاروں کی کوششوں سے اخباری صفحات اور سیمیناروں اور مختلف فورموں کے ذریعے جاری ہے جسکے ذریعے بھارت اور پاکستان کے تعلقا ت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دی جاتی ہے لیکن کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تنازعہ جنگ کے ذریعے حل ہو سکا اور نہ مذاکرات کے ذریعے اس کی گھتی سلجھ سکی ہے۔ اب گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل راحیل شریف نے براہ راست کشمیریوں کے حق آزادی اور حق خود ارادیت پر زور دیا اور وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے جنرل اسمبلی کے گزشتہ سیشن میں اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سلامتی کونسل کی متفقہ قرار دادوں پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔ علاوہ ازیں ورکنگ باؤنڈری اور ریاستی متنازعہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان گولہ باری کے واقعات میں اضافہ ہو اور دونوں طرف عام لوگ بھی مارے جا چکے ہیں۔ غرض پاکستان کی سرحدوں اور جموں و کشمیر کے اندر ہندوستان کا رویہ انتہائی جارحانہ بن گیا ہے۔
(mfr_isb@outlook.com)
اس حقیقت کے باوجود کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا سب سے پہلا اور پرانا مسئلہ ہے اور اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری اور غیر سرکاری مذاکرات کے متعدد دور چلے، دونوں ملکوں میں اس مسئلے پر جنگیں بھی ہوئیں، کئی سال سے اس تنازعے کے نام پر دونوں ملکوں کے درمیان’ امن آشا ‘کی ایک تحریک بھی اخبار نویسوں اور سفارتکاروں کی کوششوں سے اخباری صفحات اور سیمیناروں اور مختلف فورموں کے ذریعے جاری ہے جسکے ذریعے بھارت اور پاکستان کے تعلقا ت کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دی جاتی ہے لیکن کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کے امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تنازعہ جنگ کے ذریعے حل ہو سکا اور نہ مذاکرات کے ذریعے اس کی گھتی سلجھ سکی ہے۔ اب گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل راحیل شریف نے براہ راست کشمیریوں کے حق آزادی اور حق خود ارادیت پر زور دیا اور وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے جنرل اسمبلی کے گزشتہ سیشن میں اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سلامتی کونسل کی متفقہ قرار دادوں پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔ علاوہ ازیں ورکنگ باؤنڈری اور ریاستی متنازعہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان گولہ باری کے واقعات میں اضافہ ہو اور دونوں طرف عام لوگ بھی مارے جا چکے ہیں۔ غرض پاکستان کی سرحدوں اور جموں و کشمیر کے اندر ہندوستان کا رویہ انتہائی جارحانہ بن گیا ہے۔