Tuesday, March 20, 2012

بھارت پسندیدہ ملک : قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پاکستان میں انسٹی چیوٹ آف پالیسی سٹیڈیز کے زیر اہتمام سمینار سے مقررین کا خطاب


اسلام آباد// انسٹی چیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتما م سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ملک قرار دینے سے قبل ملک میںتمام فریقین کے درمیان اس اہم مسئلے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔آئی پی ایس کے چیرمین پروفیسر خورشیدکی صدارت میں منعقدہ سمینار بعنوان ’’بھارت کے ساتھ تجارت،مسائل اور طریقہ کارـ‘‘سے ماہر معاشیات ڈاکٹر منظور حسین اور عباس رضا نے خطاب کیا۔اس موقعہ پر پروفیسر خورشید نے پاک بھارت تجارت کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے بھارت سے تعلقات خواہ انکا تعلق تجارت سے ہو، ثقافت سے ہو، سیاست ہو یا امریکہ کے ریفرنس سے ہو ، ان سب پہلوں کو مدنظر رکھ کردیکھنے کی ضرورت ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی پہلو کو جدا کرنا شائد ممکن نہیں لہذا ہمیں بنیادی حقائق کے پیش نظر قومی مفادات کوترجیع دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تجارت کبھی بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان ختم نہیں ہوئی، وقتاً فوقتاً یہ سلسلہ چلتا رہا تاہم سارک کے وجود میں آنے سے صورتحال کچھ تبدیل ہوگئی ہے۔آزانہ تجارتی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے لگام ، بے قابو اور نا قابل انتظام آزاد تجارتی پالیسی کے وجہ سے پوری دنیا معاشی بد حالی کا شکار ہوگئی۔انکاکہنا تھا کہ خود انحصاری اور خود کفالت آزادنہ تجارت کے زریعے سے حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔انکا خیال تھا کہ لالچ اور حرص کو چھوڑ کر معاملات کو حقیقی سیاسی، سماجی ، معاشی اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات کو ملحوظ خاطر رکھ کر پرکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ڈاکٹر منظور حسین جو
 WTOمیں بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ معیشت کو بڑھا وا دینے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کو سیفٹا(SAFTA)اور ای سی او اور خطے میںدیگربڑے تجارتی فورمزاور تجارتی بلاکس میں اپنی جگہ بنالینی چاہیے تھی۔انکا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستان  کی حکومتوں نے آزادانہ تجارت کے حوالے سے کوئی فعال کردار ادانہیں کیاہے جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت روز بر وز کمزور ہوتی گئی۔انکا کہنا تھا کہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کو SAFTAکے حوالے سے مزیدسنجیدہ کوششیں کرنے چاہیں۔تھائی لینڈ،میسکسکو، چلی، برازیل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے جبکہ ان ممالک کا تجارتی حجم 150سے200بلین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 25بلین ڈالر پر ہے۔ترکی اور میکسکو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ بڑی معشیت اور مارکیٹ کے حامل ملکوں کے ساتھ تجارت کھولنے سے چھوٹے ملکوںکی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔انہوں  نے کہا کہ ترکی نے جب یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کیا تو اس وقت انکی بر آمدات کا حجم2.9بلین ڈالر تھا جبکہ آج کل ترکی کی بر آمدات کا ججم 137بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میکسکو بھی امریکہ بہ نسبت چھوٹا ملک تھالیکن آج انکی برآمدات 300ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا بھارت کو MFNکا درجہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا پاکستان کی بر آمدات کا 60فی صدٹیکسٹائل انڈسٹری  پر منحصر ہے جبکہ دیگر برآمدات میں سے سرجیکل گڈز، پنکھے، چاول اور ادویات بھی شامل ہیں۔مشہور ماہر معاشیات عباس رضا نے بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ملک قرار دینے کے حکومتی فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت نے یہ فیصلہ ایسے وقت پر کیوں کیا جبکہ ملک کی معشیت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل فہم ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ ایسے قت پر کیا جب ملک شدیدانرجی بحران سے دوچار ہے،فیکٹریاں بند ہورہی ہیں اوردوسری جانب مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے۔وزارت تجارت کے فیصلوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت نے بہت سارے مبہم اور مشکوک فیصلے کئے اور جہاں تک بھارت کوایم ایف این کا درجہ دینے کا سوال ہے تو میں اسے سے فیئر ڈیل نہیں سمجھتا کیونکہ اس حوالے سے کچھ شدید قسم کے رپورٹس آئے ہیں جو چیف جسٹس آف پاکستان کو وقت آنے پر پیش کئے جائینگے۔انہوں نے کہا کہ وہ آزادنہ تجارت کے خلاف نہیں تاہم وہ سمجھتے ہیںکہ اس ایشو پر مکمل اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ یکطر فہ فیصلہ ہے اور وزارت تجارت نے کسی کو اس بارے میںاعتماد میں نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ اس اہم ایشو پر کھلے دل اور کھلے زہن کے ساتھ زمینی حقائق کا ادارک کرتے ہوئے قوم اتفاق رائے پیدا کرنے کو کوشش کر لینی چاہیے۔نامور کشمیری رہنماء محمد فاروق رحمانی اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینیر غلام محمد صفی نے اس موقعہ پر کہا کہ حکومت پاکستان نے کشمیری قیادت کو اس بارے میں اعتماد میں نہیں لیاگیا۔پاکستان کی وزیرخارجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سابق صدر سردار انور خان نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ جانے وہ کونسے کشمیری تھے جنہیں اس اہم فیصلے کے وقت اعتماد میں لیا گیا ہمیں یہ معلوم نہیں۔