Saturday, December 12, 2015

انسانی حقوق کے عالمی دن کی یاد میں اسلام آباد میں حریت کانفرنس(گ) آزاد کشمیرکی طرف سے سمینار کا انعقاد

اسلام آباد 11دسمبر :(ک گ )انسانی حقوق کے عا لمگیر اعلانیہ کی یاد میں کل اسلام آباد میں کل جماعتی حریت حریت کانفر نس ( گیلا نی) کے زیر اہتما م ایک سمینار کا انعقاد ہوا' جس کی صدارت فورم کے کنو ینر غلا م محمد صفی نے کی۔انہوں نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کشمیریوں پر بھارت مظالم ڈھا کر آزادی کا راستہ روکنا چاہتا ہے'اسی لۓ اسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
 سمینار میں ایک قرار داد منظور کی گئ جس میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں عشروں سے انسانیت سوز صورت حال کی تحقیقات خصو صی طریقہ کار کے تحت کرائ جاۓ اور خطے میں کشیدگی کو ختم کرانے کے لۓ حق خود ارادیت کی قرار دادوں کو عملی جامہ پہنا یا جا ۓ۔ سمینار میں اہم شخصیات نے شرکت کی :۔ راجہ ظفرا لحق ' بیر سٹر ظفر اللہ 'عبد ا لر شید ترابی 'حامد میر' چو دھری طارق فاروق' شیخ تجمل اسلام' فرزانہ یعقوب' اطہر مسعود وانی 'عبداللہ گل' اور دیگر حضرات۔ سنیٹرراجہ ظفر الحق نے کہا کہ کشمیریوں کی مسلسل جدوجہد آزادی ایک عظیم اثاثہ ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا دو ٹوک موقف ہر فورم پر سامنے آ گیا ہے۔ اس
سمینار کی قرارداد میں کشمیر کا ذکر فریق اول کے نام سے لایا جاۓ۔۔
 وزیراعظم کے مشیر براۓ انسانی حقو ق و قانون بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ آج ہمارا موقف مستحکم ہے اور پولٹیکل ڈایئلا گ اس مسئلے کا حل ہے۔ لیکن لمبی جدوجہد کرنی ہے۔ عبد لر شید ترابی امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور اس کے لۓ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جو کاوشیں ہو رہی ہیں، ان کو باہم مربو ط کیا جانا چاہیے تاکہ بہتر سے بہتر نتائج نکل سکیں۔ حامد میر سینئر صحافی انکر پرسن نے اندیشہ ظاہر کیا کہ پرویز مشرف فارمولے کا نام بدل کر اسے کشمیر امن فارمو لا کہا جاۓ گا۔ ورنہ حالیہ پاک ہند اعلانیہ کو کمپر ھینسیو بایلیٹرل ڈایئلاگ کی نئ اصطلاح کی کیا تک تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ہندو رفیو جیوں کے ساتھ ہمیں کشمیری مسلم مہاجرین کی واپسی کے حقوق کا سوال بھی اٹھانا چاہۓ اور ان کی حالت زار کو دور کرنا چاہۓ۔ چود ھری طارق فاروق ایم ایل اے آزاد اسمبلی نے کہا کہ آزادی کے لۓ سیاسی سرگر میوں کو جلا بخشنے کی ضرورت ہے تاکہ منظر پر پاکستان کی فریقانہ حیثیت نظر آۓ۔ فرزانہ یعقوب وزیر اے۔کے نے کہا کہ گلگت ریاست کا حصہ ہے لیکن قرارداد میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ 
اطہر مسعود وانی کشمیری صحافی نے کہا کہ ہمارا موقف توانا ہے کوششوں کو تیز تر کیا جانا چاہۓ۔ عبداللہ گل نے کہا کہ ہماری تر جیحات صرف افغانستان کے مسئلے تک محدود ہو گئ ہیں جبکہ اصل مسئلہ کشمیر ہے۔ شیخ تجمل اسلام نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی بربریت جنو سائڈ کا ایک فٹ کیس ہے اسلئے اقوام متحدہ میں بھارت کواسی طرح ایک مجرم کی طرح کھڈا کیا جانا چاہیے جس طرح کئ کیسوں میں عمل کیا گیا۔ رفیق احمد ڈار ج کے ایل ایف نے ہا رٹ آف ایشیا میں پاکستان و بھارت کے مشترکہ اعلانیہ کی طرف توجہ دلائ کہا کہ با ئلیٹرل کا لفظ کیو ں کمپر یہنسیو کے ساتھ جوڈا گیا اور کمپوزٹ کو کیوں نکالا گیا۔ جبکہ کشمیری اصل فریق ہے اور کشمیر بنیادی مسئلہ ہے۔شمیمہ شال کشمیر ویمن مو منٹ نے کشمیری خواتین کے ساتھ بھارتی افواج کے بد ترین سلوک کا حالہ دیا اور کہا کہ اب ان مظالم کی انتہا ہو گئ ہے۔ محمد فاروق ر حمانی نے سمینار کے آغاز میں کہا کہ جنگ عظیم دوئم اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعد یہ امید تھی کہ انسانی حقوق کا احترام کیا جاۓ گا لیکن اسکے بعد ہی جلد یورپ میں لاکھوں مہاجرین قتل کۓ گۓ اور وطن بدر کۓ گۓ۔ اور کشمیر پر آزاد ہندوستان نے فوجی قبضہ کیا۔ اور تسلط کو دوام بخشنے کے لۓ انسانیت سوز قوانین نافز کۓ ۔ جو آج تک قا ئم ہیں۔ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں کیسے انسانی حقوق حاصل ہونگے ۔ اس لۓ سب سے پہلے بھارتی فوجوں کا انخلا ضروری ہے۔ حق خودارادیت کو دبانے کے لۓ ہی ہندوستان کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کر چکا ہے۔